Digest kahaniyan Vol 4
Author: RASHID ASHRAF
طویل کہانیوں کا انتخاب سڈنی شیلڈن کے دو یادگار ناول، عبدالقیوم شاد کی ذہن سے چپک جانے والی وہ طویل تحریر جس کے مطالعے کے بعد زندگی کی ڈگر کے تعین میں سہولت ممکن ہے ” فلم ناول“ میں ایک ایسے ناول One of our Dinosaurs Is Missing کی تلخیص جسے آپ مدتوں یاد رکھیں گے، لندن پر آدم خور چوہوں کے حملے کی داستان۔
----
وہ چوہے تھے۔ خوفناک اور حیران کن بات یہ تھی کہ وہ عام چوہوں سے زیادہ بڑے تھے۔ ُاُن میں سے کچھ تو بلی جیسی جسامت کے مالک تھے اور اگر ہنری کی آنکھیں اندھیرے میں دھوکا نہیں کھا رہی تھیں تو وہ چوہے چھوٹی نسل کے کتوں کے برابر بھی تھے۔ وہ مسلسل اُس کے جسم کو نوچ رہے تھے۔ ہنری اپنے پیروں کو حرکت دے سکتا تھا مگر اس سے کچھ حاصل نہ ہوتا۔ تمام چوہے اُس کے پیروں کی پہنچ سے باہر تھے۔ اپنے تیز دانتوں کی مدد سے وہ اُس کے ہاتھوں کا گوشت نوچ نوچ کر کھا رہے تھے۔
(شہر اجل)
---
میاں بدرالدین نے فرشتوں کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا۔ ”میری آپ سے ایک التجا ہے۔ خدا کے لیے مجھے ان جھوٹے اور ریا کار لوگوں سے کہیں دُور لے چلیں۔ ان کی باتیں مجھے بہت دُکھ پہنچا رہی ہیں۔“
”نہیں، یہ نہیں ہوسکتا۔ تمھیں یہ سب کچھ سننا پڑے گا۔“
”اگر یہ نہیں ہوسکتا تو پھر مجھے ایک دن کی مہلت دے دیں۔“ میاں بدرالدین نے کہا۔ ”صرف ایک دن کے لیے دنیا میں واپس بھیج دیں تاکہ میں ان لوگوں کو بتا سکوں کہ میں وہ نہیں ہوں جو وہ کہہ رہے ہیں۔“
”تمھاری مہلت ختم ہوچکی ہے۔“ فرشتے نے کہا اور اس کا آتشیں گرز ایک بار پھر حرکت میں آگیا۔
(متاع غرور)
----
جیمی ابھی لڑکا ہی تھا جب اس نے پہلی بار اپنے وطن میں جنوبی افریقہ کے ہیروں کے بارے میں سنا اور وہ سخت بے چین ہوگیا۔دنیا کا سب سے بڑا ہیرا جنوبی افریقہ کے اس علاقے میں ریت پر پڑا ہوا پایا گیا تھا اور جلد ہی اس کی خبر ساری دنیا میں پھیل گئی اور یہ کہا جانے لگا کہ یہ پورا علاقہ نادرو نایاب قسم کے ہیروں سے بھرا ہوا ہے۔ لوگ دنیا کے گوشے گوشے سے اس علاقے میں پہنچنا شروع ہوگئے۔
(کھلاڑی، سڈںی شیلڈن)
-----
کوپر نے سپاٹ لہجے میں کہا۔”کیا پولیس والوں نے سامان کی تلاشی لی تھی؟“
”یہ امریکن ۔یہ لعنتی امریکن۔یہ اپنے آپ کو سمجھتا کیا ہے؟“ آندرے نے دل ہی دل میں کوپر کو دو چار گالیاں دیں۔ ”میں تمہیں بتاتا ہوں کہ انہوں نے سارے سامان کی تلاشی لی تھی۔ اس کے علاوہ پوری ٹرین کو چھان مارا۔“
”کیا پولیس نے مسز لاڈی فونائی کے سامان کی بھی تلاشی لی تھی؟“ کوپر نے پوچھا۔
”صرف اس بکس کی جس میں وہ زیورات رکھتی تھی۔“ آندرے نے کہا۔”وہ تو خود چوری کی شکار ہوئی تھی ۔اس کے سامان کی تلاشی لینے کی کیا ضرورت تھی؟“
”کیونکہ منطقی طور پر وہی واحد جگہ تھی جہاں چور چوری کا مال چھپا سکتا تھا۔“کوپر نے سرد لہجے میں کہا۔
(امید سحر، سڈنی شیلڈن)
-------
”پروا نہیں ہے۔ میں ہوٹر بجاتی ہوں۔ لوگ اس کی آواز سن کر ہمیںخود ہی راستہ دے دیں گے۔“ اس نے کہا اور سر پر لٹکتی ہوئی زنجیر کھینچ دی۔ اس زنجیر کا تعلق ایک بھونپو سے تھا۔ زنجیر کھینچتے ہی وہ دو بار مہیب آواز میں گونجا۔ ”باﺅں باﺅں۔“
ایملی اور سوسان اُچھل پڑیں۔
ایملی بھونپو بجاتی ہوئی مین روڈ کے ٹریفک میں داخل ہوگئی۔ اُسے یقین تھا کہ لوگ اس بھونپو اور اسٹم ویگن کا نوٹس ضرور لیں گے۔ لوگ واقعی چونک چونک کر اس کی طرف دیکھنے لگے ویسے بھی اس پر قبل از تاریخ کا ایک دیوقامت جانور رکھا تھا، جو مسلسل اپنی گردن اور دُم ہلا رہا تھا۔ وہ اسے کیسے نظرانداز کرسکتے تھے