跳到内容

Menu

Shopping Cart

Your cart is empty
Digest kahaniyan Vol 2
Digest kahaniyan Vol 2
Digest kahaniyan Vol 2
Digest kahaniyan Vol 2
Digest kahaniyan Vol 2
Digest kahaniyan Vol 2

Digest kahaniyan Vol 2


Rs.840.00

Digest kahaniyan Vol 2

Author: RASHID ASHRAF

اچانک اسے یوں لگا جیسے وہ پتہ اس کے گدگدی کر رہا ہو۔ وہ کسی انسانی ہاتھ کی طرح اس کی گردن پر...

In Stock
SKU: ZK-00071
Tags: Non Gufhtugu Books

Digest kahaniyan Vol 2

Author: RASHID ASHRAF

اچانک اسے یوں لگا جیسے وہ پتہ اس کے گدگدی کر رہا ہو۔ وہ کسی انسانی ہاتھ کی طرح اس کی گردن پر سرسرا رہا تھا۔ مارکونی اپنا کام روک کر ہاتھ گردن کی طرف لے گیا اور اس نے اس نامعقول پتے کو جھٹک کر الگ کرنے کی کوشش کی۔ یکبارگی مارکونی پر ایک نامعلوم قسم کا خوف طاری ہوگیا۔ وہ پتہ اُس سے مزاحمت کر رہا تھا۔ اور ٹھیک اسی وقت ایک دوسرا پتہ اُس کی گردن پر سرسرانے لگا۔ ایسا لگتا تھا گویا یہ پتہ کوئی جیتا جاگتا جسم بن گیا ہو اور اس کی گردن پر رینگ رہا ہو۔ مارکونی گھبرا گیا اور اس نے دونوں پتوں کو ہاتھ سے پکڑ کر اپنی گردن سے علیحدہ کرنے کی کوشش کی۔ مگر وہ دونوں پتے مارکونی کی کلائیوں میں لپٹ گئے، اور سانپوں کی طرح اس کی دونوں کلائیوں کو، بل کھا کھا کر، اپنی گرفت میں کسنے لگے۔ (وادی خاموش) ---- مسز وائن پر غنودگی طاری تھی جب اس نے پچھلی کھڑکی کا شیشہ ٹوٹنے کی آواز سنی۔ ”افواہ ۔“اس نے دل ہی دل میں لیٹے ہوئے کہا۔” آخر ٹوٹ گیا نا! درخت کی شاخ اتنے زور سے ٹکرائی کہ ٹوٹ گیا۔ اب کل اس کو ٹھیک کر والوں گی۔“ لیکن نیم غنودگی کے عالم میں بھی مسز وائن یہ محسوس کیے بغیر نہ رہ سکی کہ کسی نے ٹوٹے ہوئے شیشے میں سے ہاتھ ڈال کرکھڑکی کی چٹخنی کھول دی ہے۔ مسز وائن ایک دم ہوشیار ہو گئی۔ اس کے دل میں خوف و دہشت کی ایک لہر دوڑ گئی۔ وہ نہ تو کوئی جوان عورت تھی اور نہ مالدار۔ اسی لیے اسے کسی سے کوئی خطرہ نہیں تھا لیکن اس وقت وہ سہم گئی۔ اس نے واقعی کھڑکی کی چٹخنی کھلنے کی آواز سنی تھی۔ اچانک اسے چار دن پہلے پیش آنے والے واقعے کا خیال آیا۔ رالف بھی تو ایک بوڑھا اور بے ضرر انسان تھا۔ مسز وائن نے ڈرتے ڈرتے اپنی گردن کھڑکی طرف گھمائی۔ کمرے میں ہلکے نیلے رنگ کا زیرو پاور کا بلب چل رہا تھا۔ مسز وائن نے کھڑکی کی طرف دیکھا۔ منظراس قدرعجیب و غریب ، اتنا ناقابل یقین اور دل دہلا دینے والا تھا کہ مسز وائن ایک بھیانک چیخ مار کر بے ہوش ہو گئی۔ (مارتھا کیٹ) ---- اور اچانک ہوون کی نگاہوں نے ایک عجیب و غریب چیز دیکھی۔ ندی کے اُتھلے پانی میں یک بیک ہلچل سی ہونے لگی، اور پھر اس میں سے چند بے حد خوف ناک قسم کے سانپ برآمد ہوئے۔ یہ بڑے انوکھے سانپ تھے۔ ہوون نے اپنی زندگی میں کبھی اس قسم کے سانپ نہیں دیکھے تھے۔ ان کا رنگ بھورا بھوراسا تھا۔ ان کے جسموں پر بڑے بڑے بال تھے اور ان کا پھن جسم کی جسامت سے زیادہ چوڑا نہیں تھا بلکہ اس کے مساوی ہی تھا۔ ان میں سے ہر سانپ تقریباً چار فٹ لمبا تھا اور اس کے جسم کی موٹائی کا قطر کسی طرح بھی دو انچ سے کم نہیں تھا۔ ہوون مبہوت ہو کر انھیں دیکھنے لگا۔ بڑا ڈراﺅنا منظر تھا۔ اس نے ان کو گنا۔ وہ تعداد میں آٹھ تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے پانی میں سے دو اور سانپ نکل آئے اور ان کی تعداد دس ہوگئی۔ (زندہ خلیے) ----- وہ سبب اب اس کی سمجھ میں آرہا تھا۔ گولوں میں کوئی نامعلوم قسم کی برقی مقناطیسی قوت موجود تھی۔ چھوٹے گولوں میں یہ قوت کم تھی۔ اس لیے اس کا مظاہرہ بھی کمزور تھا لیکن جب دس گولوں نے مل کر ایک گولے کی شکل اختیار کرلی تو اُن کے اندر موجود برقی مقناطیسی قوت بھی بہت بڑھ گئی۔ پھر انہوں نے ایک اور جسم کو نگل لیا اور ان کی قوت مزید بڑھ گئی۔ اور اب وہ گولہ تیزی سے سڑک پر بھاگ رہا تھا۔ اس کے بعد کیا ہوگا؟ یہ سوچنا ہی ٹونی کے لیے موت جیسے عذاب سے کم نہیں تھا۔ اس کے ہاتھ اسٹیرنگ پر بری طرح کانپنے لگے اور اس نے گاڑ ی ایک طرف کھڑی کردی۔ اگر وہ مزید ڈرائیو کرتا تو کوئی ایکسیڈنٹ ہوجانے کا خطرہ تھا۔ اگر اس گولے کو مزید جسم ملتے گئے تو یہ ان کو اسی طرح نگلتا جائے گا جس طرح اس نے مارش کے جسم کو نگل لیا ہے۔“ ٹونی نے سوچا ۔” اور اس کے ساتھ ہی اس کی قوت میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا۔ اف میرے خدا میں کیا کروں؟“ (ری پلے)


related products